اس کے انکار کو اقرار تک آنا پڑے گا
خواب کو دیدۂ بیدار تک آنا پڑے گا
یہ تمازت مِرا ملبوس جلا سکتی ہے
اب مجھے سایۂ دیوار تک آنا پڑے گا
کب تلک دھوپ میں تم لوگ پگھلتے رہو گے
جلنے والو! تمہیں اشجار تک آنا پڑے گا
میں تُجھے کیسے محبت کی اجازت دے دوں
تُجھ کو پہلے مِرے معیار تک آنا پڑے گا
اتنی آسانی سے وہ بات نہیں مانے گا
مجھ کو لگتا ہے کہ تکرار تک آنا پڑے گا
آ گیا عشق میں رُسوائی کا موسم صاحب
یعنی اب کوچہ و بازار تک آنا پڑے گا
گل حوریہ
No comments:
Post a Comment