صفحات

Wednesday, 3 March 2021

آخری بار زمانے کو دکھایا گیا ہوں

آخری بار زمانے کو دکھایا گیا ہوں

ایسا لگتا ہے کہ میں دار پہ لایا گیا ہوں

سب مجھے ڈھونڈنے نکلے ہیں بجھا کر آنکھیں

بات نکلی ہے کہ میں خواب میں پایا گیا ہوں

پیڑ بھی زرد ہوئے جاتے ہیں مجھ سے مل کر

جانے میں کیسی اداسی سے بنایا گیا ہوں

راہ تکتی ہے کسی اور جگہ خوش خبری

میں مگر اور ہی رستے سے بلایا گیا ہوں

کتنی مشکل سے مجھے دھوپ نے سر سبز کیا

کتنی آسانی سے بارش میں جلایا گیا ہوں


عابد ملک

No comments:

Post a Comment