صفحات

Tuesday, 2 March 2021

سوال اندر سوال لے کر کہاں چلے ہو

سوال اندر سوال لے کر کہاں چلے ہو؟

یہ آسمان ملال لے کر کہاں چلے ہو؟

جنوں کے رستے میں یہ خودی بھی عذاب ہو گی

خِرد کا کوہِ وبال لے کر کہاں چلے ہو؟

کہاں پہ کھولو گے درد اپنا کسے کہو گے

کہیں چھپاؤ، یہ حال لے کر کہاں چلے ہو

نہا رہے ہو عذابِ ہجراں کی بارشوں میں 

ذرا سی گردِ وصال لے کر کہاں چلے ہو 

سراب پینے کی آرزو ہے تو جواب دے دو 

سفر میں خواب و خیال لے کر کہاں چلے ہو 

چلے ہو جب تو ہمارے موسم بدل چکے ہیں 

سنو یہ میرے وبال لے کر کہاں چلے ہو 


ثروت زہرا

No comments:

Post a Comment