صفحات

Tuesday, 2 March 2021

وہ درمیان سے نکلا تو یہ کھلا مجھ پر

 وہ درمیان سے نکلا تو یہ کھلا مجھ پر

کہ ہو گئے ہیں مسلط کئی خدا مجھ پر

ادھورے نقش وگرنہ کشش نہیں رکھتے

کیا گیا ہے کوئی خاص تجربہ مجھ پر

وہ چاند ہے اسے زیبا ہے داغ ماتھے پر

میں راستہ ہوں سو پڑتا ہے نقشِ پا مجھ پر

بٹھا دیا گیا پہلے بڑے بڑوں میں مجھے

پھر ایک کیمرہ فوکس کیا گیا مجھ پر

ہمارے بیچ تکلم کی ایک صورت تھی

کہ حسن تجھ پہ اترتا اور آئینہ مجھ پر

وہ شہر گھوم کے گر شہر سے نہیں نکلا

تو اس نے لوٹ کے کرنا ہے اکتفا مجھ پر

سفید رنگ میں کالج گیا میں آخری دن

نہ چاہ کر بھی کوئی رنگ پھینکتا مجھ پر

میں اک ادا سے درختوں کے بیچ ٹھہرا رہا

اور ایک روز کوئی نام لکھ گیا مجھ پر


حارث بلال

No comments:

Post a Comment