وہ درمیان سے نکلا تو یہ کھلا مجھ پر
کہ ہو گئے ہیں مسلط کئی خدا مجھ پر
ادھورے نقش وگرنہ کشش نہیں رکھتے
کیا گیا ہے کوئی خاص تجربہ مجھ پر
وہ چاند ہے اسے زیبا ہے داغ ماتھے پر
میں راستہ ہوں سو پڑتا ہے نقشِ پا مجھ پر
بٹھا دیا گیا پہلے بڑے بڑوں میں مجھے
پھر ایک کیمرہ فوکس کیا گیا مجھ پر
ہمارے بیچ تکلم کی ایک صورت تھی
کہ حسن تجھ پہ اترتا اور آئینہ مجھ پر
وہ شہر گھوم کے گر شہر سے نہیں نکلا
تو اس نے لوٹ کے کرنا ہے اکتفا مجھ پر
سفید رنگ میں کالج گیا میں آخری دن
نہ چاہ کر بھی کوئی رنگ پھینکتا مجھ پر
میں اک ادا سے درختوں کے بیچ ٹھہرا رہا
اور ایک روز کوئی نام لکھ گیا مجھ پر
حارث بلال
No comments:
Post a Comment