صفحات

Monday, 1 March 2021

غول پریوں کے چلے آتے ہیں ویرانے میں

 غول پریوں کے چلے آتے ہیں ویرانے میں

کون سی بات ہے ایسی تِرے دیوانے میں

اور محفل میں مِرے دل کی لگی بھڑکائی

کہہ کے بیدرد نے، کیا سوز ہے پروانے میں

پاؤں رکھے وہ کہیں، دل پہ مِرے پڑتا ہے

یہ قیامت کی ادا ہے، مِرے مستانے میں

دیکھ کر حُسنِ بتاں میں تو زخود رفتہ تھا

لوگ کہتے ہیں کہ سجدے کئے بت خانے میں

پھول اُٹھائیں جو ہمارے تو دُکھیں نازک ہاتھ

غیر کی نعش اُٹھے درد نہ ہو شانے میں

مشق کی جھوم کے شاخوں نے چمن میں برسوں

وہ نہ آئی جو ادا ہے مِرے مستانے میں

شمع کہتی ہے بلا میری جلائے اس کو

خود جلے سوز تو موجود ہے پروانے میں

کہہ رہی ہے مِرے ساقی کی یہ مستی بھری آنکھ

اتنی مے ہے کہ سماتی نہیں پیمانے میں

اے نسیمِ سحری شمع کو گُل کر نہ ابھی

جان تھوڑی سی ہے جلتے ہوئے پروانے میں

اے فضا جو تمہیں کہنا ہے وہ ساقی سے کہو

کون سنتا ہے سبھی مست ہیں مے خانے میں​


فضا بسوانی

No comments:

Post a Comment