خدا کے گھر کو میں اور اچھا بنا رہا ہوں
کہ اس کے آنگن میں سبز پودے لگا رہا ہوں
یہ ایک مسجد ہے، اور پرانی بنی ہوئی ہے
میں جس میں بیٹھا خدا کو دُکھڑے سنا رہا ہوں
ذرا سا ٹھہرو کہ رُوح پھُونکوں گا اس میں اپنی
ابھی تو مُورت میں اپنے جیسی بنا رہا ہوں
میں صبح دریا سے مل کے آیا ہوں، یار! خوش تھا
میں شام صحرا سے دوست ملنے کو جا رہا ہوں
جو خود سے ہنس ہنس کے بات کرتا ہوں اس لیے کہ
اُداس چہرے کو مسکرانا سکھا رہا ہوں
بنا رہا ہوں گِرا کے دیوارِ خستہ احمد
یتیم بچوں کا میں خزانہ چھپا رہا ہوں
احمد عرفان
No comments:
Post a Comment