Monday, 1 March 2021

خدا کے گھر کو میں اور اچھا بنا رہا ہوں

 خدا کے گھر کو میں اور اچھا بنا رہا ہوں

کہ اس کے آنگن میں سبز پودے لگا رہا ہوں

یہ ایک مسجد ہے، اور پرانی بنی ہوئی ہے

میں جس میں بیٹھا خدا کو دُکھڑے سنا رہا ہوں

ذرا سا ٹھہرو کہ رُوح پھُونکوں گا اس میں اپنی

ابھی تو مُورت میں اپنے جیسی بنا رہا ہوں

میں صبح دریا سے مل کے آیا ہوں، یار! خوش تھا

میں شام صحرا سے دوست ملنے کو جا رہا ہوں

جو خود سے ہنس ہنس کے بات کرتا ہوں اس لیے کہ

اُداس چہرے کو مسکرانا سکھا رہا ہوں

بنا رہا ہوں گِرا کے دیوارِ خستہ احمد

یتیم بچوں کا میں خزانہ چھپا رہا ہوں


احمد عرفان

No comments:

Post a Comment