صفحات

Monday, 1 March 2021

زندہ آنکھوں میں بے حسی روشن

 زندہ آنکھوں میں بے حسی روشن 

مردہ چہروں پہ تازگی روشن 

ان نصیبوں پہ روز ہو ماتم

ان کی محفل میں روشنی روشن

خود میں اس کو بُجھا دیا میں نے 

پھر ہُوا مجھ میں اور بھی روشن 

بے وفا تھا، مگر بچھڑنے پر

اسکی آنکھوں میں تھی نمی روشن

عادتاً سب سے بات کرتی ہوں

اس کی رہتی مگر کمی روشن

اسکے چہرے سے چھن کے آتی ہے 

تب ہی لگتی ہے چاندنی روشن 


صباحت عروج

No comments:

Post a Comment