صفحات

Friday, 26 March 2021

محور قدم مٹی پہ رکھتی ہو

 محور


قدم مٹی پہ رکھتی ہو 

کہ عرش اوپر ٹھہرتے ہیں 

کہ جب تم پاؤں دھرتی ہو 

تو دھرتی کے جگر کی دھڑکنیں بھی آزماتی ہو 

بہاروں میں بکھرتیں تو تمہیں بس ڈھونڈتے پھرتے 

مگر تم رنگ و بُو کو اپنا پس منظر بناتی ہو 

خوشدلی کے قہقہے کی نقرئی گھنٹی کے نغموں کی کھنک کے ساتھ 

سارے منظروں پر پھیل جاتی ہو 

وہ ساعت جس میں تم دم لو 

زمانے کی ہر اک تقدیم سے باہر 

کوئی پھیلا ہوا لمحہ ٹھہرتی ہے 

وہ سب گوشے جہاں تنہائی تم کو کھینچ لے جائے 

وہیں تو ریشمی نکہت کی تنویریں بکھرتی ہیں 

یہ تصویریں 

کہ جن میں تم نے دیکھا 

لوگ دن کے ہفت خواں کو کاٹتے گزرے 

یہ سب خوں تھوکتے 

زخم اپنے اپنے چاٹتے انساں 

فقط اس شام کی آہٹ پہ جاتے ہیں 


احسان اکبر

No comments:

Post a Comment