صفحات

Friday, 26 March 2021

میں سوچتا تھا کہ کہنا بھلا دیا اس نے

 میں سوچتا تھا کہ کہنا بھلا دیا اس نے

کواڑ کھول کے پردہ اٹھا دیا اس نے

جو سوچتے تھے کہ بالغ نظر کہاں ہے کوئی

وہ ہاتھ ملتے ہیں کیسا دلا دیا اس نے

کہانیوں سے کشیدہ ملال کی قرأت

اور اس کے بعد لطیفہ سنا دیا اس نے

وہ بے جہت جو مِری خوابگاہ تک پہنچی

تو میری نیند میں رخنہ بنا دیا اس نے

ڈراپ سین سے پہلے جگا دیا جاناں

مِرے گماں کا تلذذ اٹھا دیا اس نے


عقیل عباس

No comments:

Post a Comment