صفحات

Monday, 1 March 2021

میں کیا کروں یہیں کرنا ہے انتظار مجھے

میں کیا کروں یہیں کرنا ہے انتظار مجھے

اسی جگہ تو ملا تھا وہ پہلی بار مجھے

بساط زیست پہ بازی پلٹ بھی سکتی ہے

ترا نصیب جو مل جائے مستعار مجھے

اسی نے مجھ کو بنا کر سپرد تیرے کیا

ذرا سلیقے سے اے زندگی گزار مجھے

بنا لگام کے بیٹھا دیا ہے مالک نے

تو خواہ مخواہ سمجھتا ہے شہسوار مجھے

خطا معاف ہو اس کی بھی کیا ضرورت تھی

برائے نام جو بخشا ہے اختیار مجھے

تلاش رزق میں گھر سے نہیں نکلتا اگر

تو کرنا پڑتا میسر پہ انحصار مجھے

تو اے ضمیر جہاں مجھ کو لے کے بیٹھا ہے

اسی مقام پہ رکھیو تو برقرار مجھے

قسم نہ کھا تری فطرت سے خوب واقف ہوں

ہے تیری وعدہ خلافی کا اعتبار مجھے

یہ زندگی جو کہیں چین سے نہیں گزری

تمام عمر رہی فکر روزگار مجھے

میں ان خلاؤں میں گمنام ہو نہ جاؤں کہیں

عروج فن مری دہلیز پر اتار مجھے


رخسار ناظم آبادی

No comments:

Post a Comment