شادمانی بھی ہے اور غم کی فراوانی بھی ہے
زلف میں سلجھاؤ بھی ہے اور پریشانی بھی ہے
زندگی انسان کی ساحل بھی طغیانی بھی ہے
اشک جیسے آنکھ میں موتی بھی ہے پانی بھی ہے
دیکھیۓ حسنِ تصور کی دو رنگی دیکھیۓ
دل کی بستی میں اندھیرا بھی ہے تابانی بھی ہے
حسنِ شعلہ ریز کی رنگینیوں سے پوچھیۓ
آگ کا دریا بھی دل بھی خون بھی پانی بھی ہے
مصحفِ رخ پر جو ہے زلفِ بکھری ہوئی
کفر کی ظلمت بھی ہے اور نورِ ایمانی بھی ہے
چار تنکے ہی نہیں ہیں اعتبارِ آشیاں
ہوشیار اے برق میری آنکھ میں پانی بھی ہے
کاوشیں ہی توڑ دیتی ہیں طلسمِ کائنات
غور کر ساغر کہ ہر مشکل میں آسانی بھی ہے
ساغر اجمیری
No comments:
Post a Comment