تنہا تنہا سہمی سہمی خاموشی
جیسی ہیں آوازیں ویسی خاموشی
تنہائی میں چونکا دیتی ہے اکثر
سناٹے سے باتیں کرتی خاموشی
بے مقصد محفل سے بہتر تنہائی
بے مطلب باتوں سے اچھی خاموشی
دو آوازے ہمراہی اک رستہ کی
اور دونوں کے بیچ میں چلتی خاموشی
چپکے چپکے گھر کو ڈستی رہتی ہے
دروازے کی دیواروں کی خاموشی
خاموشی کے ضبط سے ڈرتی آوازیں
آوازوں کے شور سے ڈرتی آوازیں
عین عرفان
No comments:
Post a Comment