صفحات

Wednesday, 3 March 2021

تنہا تنہا سہمی سہمی خاموشی

 تنہا تنہا سہمی سہمی خاموشی

جیسی ہیں آوازیں ویسی خاموشی

تنہائی میں چونکا دیتی ہے اکثر

سناٹے سے باتیں کرتی خاموشی

بے مقصد محفل سے بہتر تنہائی

بے مطلب باتوں سے اچھی خاموشی

دو آوازے ہمراہی اک رستہ کی

اور دونوں کے بیچ میں چلتی خاموشی

چپکے چپکے گھر کو ڈستی رہتی ہے

دروازے کی دیواروں کی خاموشی

خاموشی کے ضبط سے ڈرتی آوازیں

آوازوں کے شور سے ڈرتی آوازیں


عین عرفان

No comments:

Post a Comment