سکوں نصیب ہے پر اپنے گھر کی حد تک ہے
کوئی تو ہے کہ جو دیوار و در کی حد تک ہے
میں چاہتا ہوں کہ دنیا میں کچھ بڑا کر جاؤں
مِرا زمانہ مگر خیر و شر کی حد تک ہے
ابھی وہ چھت پہ کھڑے ہو کے ہاتھ سینکتے ہیں
ابھی یہ آگ فقط میرے گھر کی حد تک ہے
کوئی طلوع ہوا اور دھند چھانے لگی
مجھے لگا تھا اندھیرا سحر کی حد تک ہے
حضور دوسری منزل پہ رہنا بھی دکھ ہے
کہ گھر کا پیڑ بھی مجھ پر ثمر کی حد تک ہے
مِرے پڑوس کے اونچے چوباروں والے لوگ
مجھے بتاتے ہیں دنیا نظر کی حد تک ہے
حارث بلال
No comments:
Post a Comment