Wednesday, 3 March 2021

سکوں نصیب ہے پر اپنے گھر کی حد تک ہے

 سکوں نصیب ہے پر اپنے گھر کی حد تک ہے

کوئی تو ہے کہ جو دیوار و در کی حد تک ہے

میں چاہتا ہوں کہ دنیا میں کچھ بڑا کر جاؤں

مِرا زمانہ مگر خیر و شر کی حد تک ہے

ابھی وہ چھت پہ کھڑے ہو کے ہاتھ سینکتے ہیں 

ابھی یہ آگ فقط میرے گھر کی حد تک ہے 

کوئی طلوع ہوا اور دھند چھانے لگی

مجھے لگا تھا اندھیرا سحر کی حد تک ہے

حضور دوسری منزل پہ رہنا بھی دکھ ہے

کہ گھر کا پیڑ بھی مجھ پر ثمر کی حد تک ہے

مِرے پڑوس کے اونچے چوباروں والے لوگ 

مجھے بتاتے ہیں دنیا نظر کی حد تک ہے 


حارث بلال

No comments:

Post a Comment