Wednesday, 3 March 2021

شام کے آثار گیلے ہیں بہت

 شام کے آثار گِیلے ہیں بہت

پھر مِری آنکھوں میں تِیلے ہیں بہت

تم سے ملنے کا بہانہ تک نہیں

اور بچھڑ جانے کے حیلے ہیں بہت

کشتِ جاں کو خشک سالی کھا گئی

موسموں کے رنگ پیلے ہیں بہت

برف پگھلی ہے فراز عرش سے

آسماں کے رنگ نیلے ہیں بہت

بیل کی صورت ہیں ہم پھیلے ہوئے

ہم فقیروں کے وسیلے ہیں بہت

لوگ بستی کے بھی ہیں شیریں صفت

میرے نغمے بھی رسیلے ہیں بہت

قیس ہم جوگی ہیں اپنے شہر کے

ناگ تو ہم نے بھی کیلے ہیں بہت


سعید قیس

No comments:

Post a Comment