جھرنے رنگوں کے
راحتوں کی آہٹوں میں
بہہ رہا دریائے دل
پربتوں کے وادیوں کے واسطے اٹھتی نظر
آسمانِ زندگانی
تیری جانب بھیجے ہیں
بال و پر پھیلائے
اپنے رنگ دکھلاتے ہوئے
گیت گاتے
گنگناتے
کچھ طیورِ آرزو
خانۂ دل اور طوفانِ خوشی کی کشمکش
آسمانوں پر
مہکنے لگ گئے تارے کئی
تھم گئی ہے وقت کی رفتار جیسے آخرش
بہہ رہے ہوں
جیسے
دھارے نکہتِ پُر نور کے
ساتھ ہی
کچھ روح میں
رنگوں کے جھرنے گر رہے
جن سے اندر کتنی کُھلنے لگ گئی ہیں کھڑکیاں
صدف رباب
No comments:
Post a Comment