صفحات

Friday, 26 March 2021

شفق کی سرخی میرے خون کی لالی میں ڈھلے

 شفق کی سُرخی میرے خون کی لالی میں ڈھلے

زندگی اپنی جو ڈھلے، سبز ہلالی میں ڈھلے

میرے جذبوں کی تڑپ، میرے خیالوں کی لہر

اِک نیا بحر بنے، بحرِ مثالی میں ڈھلے

میری آسوں کی زمیں، میری اُمیدوں کا فلک

جب کبھی شام ڈھلے، سحرِ اُجالی میں ڈھلے

میں نے چاہا کہ انہی ظلم کے گہواروں میں

کوئی شاعر جو اُٹھے، شہر کے حالی میں ڈھلے

تخیل میرے رِشتے ہیں، تصور میری ذاتیں

جب میری ذات بنے، ذاتِ خیالی میں ڈھلے

میری ہستی میں مِلا کر، میری مستی کا جنوں

جب میری خاک ڈھلے، خاکِ نرالی میں ڈھلے


اطیب اسلم

No comments:

Post a Comment