صفحات

Tuesday, 2 March 2021

جسے بھی نام کی ضرورت ہے

جسے بھی نام کی ضرورت ہے

اسے کچھ دام کی ضرورت ہے

موت کے حق میں بولتا ہے وہ

اسے آرام کی ضرورت ہے

خامشی کھا نہ جائے میرا وجود

مجھے کُہرام کی ضرورت ہے

دن کی وحشت سپرد کرنے کو

صبح کو شام کی ضرورت ہے

پھِیکا پڑنے لگا تعلق  بھی

اس کو الزام کی ضرورت ہے

شعر کہنا ہے اس کی قامت پر

فرصت و جام کی ضرورت ہے

ضبط لازم ہے جس تعلّق میں 

اس کو انجام کی ضرورت ہے

شاعری سے نہیں گزرتی حیات

تمہیں کچھ کام کی ضرورت ہے


صباحت عروج

No comments:

Post a Comment