جسے بھی نام کی ضرورت ہے
اسے کچھ دام کی ضرورت ہے
موت کے حق میں بولتا ہے وہ
اسے آرام کی ضرورت ہے
خامشی کھا نہ جائے میرا وجود
مجھے کُہرام کی ضرورت ہے
دن کی وحشت سپرد کرنے کو
صبح کو شام کی ضرورت ہے
پھِیکا پڑنے لگا تعلق بھی
اس کو الزام کی ضرورت ہے
شعر کہنا ہے اس کی قامت پر
فرصت و جام کی ضرورت ہے
ضبط لازم ہے جس تعلّق میں
اس کو انجام کی ضرورت ہے
شاعری سے نہیں گزرتی حیات
تمہیں کچھ کام کی ضرورت ہے
صباحت عروج
No comments:
Post a Comment