Tuesday, 2 March 2021

کہاں لے جائیں گے سامان اتنا

 کہاں لے جائیں گے سامان اتنا

اگر آ جائے ہم کو دھیان اتنا

یہ آنکھیں ڈھونڈتی رہتی ہیں کس کو

یہ دل رہتا ہے کیوں حیران اتنا

اسے کوئی سمجھ سکتا ہے کیسے

بدل جاتا ہو جو ہر آن اتنا

جو کرنا تھا وہ میں نے کر لیا ہے

مِرے جوہر میں تھا اِمکان اتنا

اسے ہم بھُول تو سکتے ہیں لیکن

نہیں یہ کام کچھ آسان اتنا

کسے رہنا ہے دُنیا میں ہمیشہ

کہاں ہو گا کوئی نادان اتنا

ضیا دنیا میں جتنا رہ چکے ہم

بھَلا رہتے ہیں کب مہمان اتنا


ضیا الحسن

No comments:

Post a Comment