صفحات

Friday, 26 March 2021

پرچم اٹھا کے عشق کا خلقت میں آ گئے

 پرچم اٹھا کے عشق کا خلقت میں آ گئے

صحرا مزاج لوگ تھے وحشت میں آ گئے

شب تھی، مگر جوان تھے بیدار دیر تک

چوروں سے بھُول ہو گئی عُجلت میں آ گئے

کچھ جھُوٹ اُڑ رہے تھے بہت آسمان پر

حقا کہ دامِ پنجۂ قُدرت میں آ گئے

ہم خُوش خرام آئے ہیں مقتل میں ناز سے

باقی یہ بد حواس تو سنگت میں آ گئے


توقیر گیلانی

No comments:

Post a Comment