صفحات

Tuesday, 2 March 2021

تدبیریں لاکھ کرے کوئی اب ہوش میں ہم کب آتے ہیں

واعظ کی کڑوی باتوں کو کب دھیان میں اپنے لاتے ہیں

یہ رند بلا نوش ایسے ہیں سنتے ہیں اور پی جاتے ہیں

ہم آپ سے جو کچھ کہتے ہیں وہ بالکل جھوٹ غلط اک دم

اور آپ جو کچھ فرماتے ہیں بے شبہ بجا فرماتے ہیں

دیوانہ سمجھ کر چھیڑ کے وہ سنتے ہیں ہماری باتوں کو

ہم مطلب کی کہہ جاتے ہیں وہ سوچ کے کچھ رہ جاتے ہیں

مجبور محبت کی حالت بیگانۂ الفت کیا جانے

ہم غیروں کے طعنے سنتے ہیں اور سن کر چپ رہ جاتے ہیں

گردن ہے جھکی نظریں نیچی اور لب پہ ہے ان کے تبسم بھی

ہے قابل دید وہ شوخی بھی جس وقت کہ وہ شرماتے ہیں

بے ہوش پڑے ہیں عشق میں اور سر ہے کسی کے زانو پر

تدبیریں لاکھ کرے کوئی اب ہوش میں ہم کب آتے ہیں

کام انجم کا جو تمام کیا یہ آپ نے واقعی خوب کیا

کم بخت اسی کے لائق تھا اب آپ عبث پچھتاتے ہیں


انجم مانپوری

نور محمد

No comments:

Post a Comment