دشت میں کون کہاں کس کے لیے زندہ ہے
وقت کا سیلِ رواں کس کے لیے زندہ ہے
سانس لیتا ہوں کے کچھ قرض چکانا ہے ابھی
میں تو زندہ ہوں جہاں کس کے لیے زندہ ہے
آ کے رُکتی ہے میری فکر اسی نکتے پر
تو یقیں ہے تو گماں کس کے لیے زندہ ہے
روز میں اس کے تعاقب میں نِکل پڑتا ہوں
مجھ میں ہوتی ہے اذاں کس کے لیے زندہ ہے
جا کہیں اور جلا اپنی امیدوں کے چراغ
کون آتا ہے یہاں کس کے لیے زندہ ہے
کیا مِرے بعد بھی آئے گا کوئی محفل میں
بجھ چلی شمع دھواں کس کے لیے زندہ ہے
قیس دیوار کے سائے میں سکوں نام کی چیز
مجھ سے کہتی ہے میاں کس کے لیے زندہ ہے
ندیم قیس
No comments:
Post a Comment