صفحات

Tuesday, 2 March 2021

دھوپ ہے نکلی ہوئی اعلان بھی بارش کا ہے

دھوپ ہے نکلی ہوئی اعلان بھی بارش کا ہے

میں تو ہوں صحرا میں اور امکان بھی بارش کا ہے

دل کے روشن دان سے نکلے گی تنہائی میری

ڈر رہا ہوں خوف سے ارمان بھی بارش کا ہے

مسندِ غربت پہ ہوں بیٹھا کسی کی یاد میں

فائدہ اس رُت میں کیا نقصان بھی بارش کا ہے

ٹوٹ کے ساون جو برسا زندگی کی راہوں پر

کِھل اٹھا دل بھی مِرا احسان بھی بارش کا ہے

دشمنِ جاں کی طرح میری طرف بڑھنے لگا

کروٹیں لیتا ہوا طوفان بھی بارش کا ہے

مجھ کو پھر سے بے در و دیوار کا ہے سامنا

بے سر و سامان ہوں، سامان بھی بارش کا ہے

اس کے آنے کی خبر سے ہو گیا ہوں تندرست

رحمتوں کی شان ہے رحمان بھی بارش کا ہے


وسیم بدایونی 

No comments:

Post a Comment