دھوپ ہے نکلی ہوئی اعلان بھی بارش کا ہے
میں تو ہوں صحرا میں اور امکان بھی بارش کا ہے
دل کے روشن دان سے نکلے گی تنہائی میری
ڈر رہا ہوں خوف سے ارمان بھی بارش کا ہے
مسندِ غربت پہ ہوں بیٹھا کسی کی یاد میں
فائدہ اس رُت میں کیا نقصان بھی بارش کا ہے
ٹوٹ کے ساون جو برسا زندگی کی راہوں پر
کِھل اٹھا دل بھی مِرا احسان بھی بارش کا ہے
دشمنِ جاں کی طرح میری طرف بڑھنے لگا
کروٹیں لیتا ہوا طوفان بھی بارش کا ہے
مجھ کو پھر سے بے در و دیوار کا ہے سامنا
بے سر و سامان ہوں، سامان بھی بارش کا ہے
اس کے آنے کی خبر سے ہو گیا ہوں تندرست
رحمتوں کی شان ہے رحمان بھی بارش کا ہے
وسیم بدایونی
No comments:
Post a Comment