صفحات

Friday, 26 March 2021

تمہارے کہنے پہ کیا کیا نہیں بدلتے ہم

 تمہارے کہنے پہ کیا کیا نہیں بدلتے ہم

بس اپنے آپ کا حلیہ نہیں بدلتے ہم

بتائے جا کے کوئی خوش فہم منازل کو

"جو چل پڑیں تو ارادہ نہیں بدلتے ہم"

ذرا سا ہم بھی وفادار رہنا چاہتے ہیں

سو اپنے آپ کو سارا نہیں بدلتے ہم

بہت بھی ہو تو فقط آئینہ بدلتے ہیں 

کہ خود پرست ہیں، چہرہ نہیں بدلتے ہم

مریضِ عشق ہیں دانش شفا ملے نہ ملے

مگر یہ طے ہے، مسیحا نہیں بدلتے ہم


اعجاز دانش

No comments:

Post a Comment