تمہارے کہنے پہ کیا کیا نہیں بدلتے ہم
بس اپنے آپ کا حلیہ نہیں بدلتے ہم
بتائے جا کے کوئی خوش فہم منازل کو
"جو چل پڑیں تو ارادہ نہیں بدلتے ہم"
ذرا سا ہم بھی وفادار رہنا چاہتے ہیں
سو اپنے آپ کو سارا نہیں بدلتے ہم
بہت بھی ہو تو فقط آئینہ بدلتے ہیں
کہ خود پرست ہیں، چہرہ نہیں بدلتے ہم
مریضِ عشق ہیں دانش شفا ملے نہ ملے
مگر یہ طے ہے، مسیحا نہیں بدلتے ہم
اعجاز دانش
No comments:
Post a Comment