Friday, 26 March 2021

خواب نگر کا نقشہ لے کر آنکھوں میں

 خواب نگر کا نقشہ لے کر آنکھوں میں 

بسے بسائے لوگوں نے گھر چھوڑ دئیے

ترجیحات تھیں اپنی، جرگے والوں کی

لے گئے اونچی دستاریں، سر چھوڑ دئیے

ظلمت کے وہ باغی تھے جن لوگوں نے 

حق کی خاطر اپنے لشکر چھوڑ دئیے

کنگن بھی تھے مہنگے، اور کتابیں بھی 

میں نے لفظ خریدے، زیور چھوڑ دئیے

بستی کے بنجاروں نے میرے دل سے  

سانپ نکالے وہموں کے ڈر چھوڑ دئیے


ناصرہ زبیری

No comments:

Post a Comment