خواب نگر کا نقشہ لے کر آنکھوں میں
بسے بسائے لوگوں نے گھر چھوڑ دئیے
ترجیحات تھیں اپنی، جرگے والوں کی
لے گئے اونچی دستاریں، سر چھوڑ دئیے
ظلمت کے وہ باغی تھے جن لوگوں نے
حق کی خاطر اپنے لشکر چھوڑ دئیے
کنگن بھی تھے مہنگے، اور کتابیں بھی
میں نے لفظ خریدے، زیور چھوڑ دئیے
بستی کے بنجاروں نے میرے دل سے
سانپ نکالے وہموں کے ڈر چھوڑ دئیے
ناصرہ زبیری
No comments:
Post a Comment