Friday, 26 March 2021

سر اٹھایا مذہبی دیوار پر پٹکا ہوا

 سر اٹھایا مذہبی دیوار پر پٹکا ہوا

راہ پر آنے لگا دل راہ سے بھٹکا ہوا

رس کشی کی دعوتیں دیتے رہے تازہ گلاب

جھاڑیوں میں تھا مگر تتلی کا پر اٹکا ہوا

تذکرہ ہونے لگا جب آستیں کے سانپ کا

پاس ہی احساس مجھ کو سرسراہٹ کا ہوا

تشنۂ دیدار میں ہی تو نہیں ہوں اِن دنوں

اُس کے گھر کے آئینے کا بھی ہے منہ لٹکا ہوا

اجنبی ماحول میں کھو جانے کا ڈر ہے تو کیا

تھام لوں دامن تِرا میں بارہا جھٹکا ہوا


ذیشان الٰہی

No comments:

Post a Comment