Friday, 26 March 2021

بے خرد سمجھے گئے نادان گردانے گئے

 بے خرد سمجھے گئے، نادان گردانے گئے

لوگ جو سمجھا کیے، ہم لوگ کب جانے گئے

زندگی کی ہر کشش آواز دیتی رہ گئی

ہم غمِ جاناں کو کتنی دُور اپنانے گئے

آگہی پر ہنس کے چُپ رہنے کی عظمت کو سلام

آہ، وہ کم ظرف دیوانے جو پہچانے گئے

ہائے جینے کی ہوس، ہائے ارادوں کی شکست

تشنہ لب ذروں کو ہم دریا کا دل مانے گئے

زندگی اک دُور سے آتی ہوئی آواز تھی

چلنے والے کوئی کوئی لفظ پہچانے گئے

جب سے دل اُجڑا ہے دنیا ہی اُجڑ کر رہ گئی

ہم جہاں پہنچے، ہمارے ساتھ وِیرانے گئے

آج کس عالم میں لوگوں نے مجھے دیکھا ضمیر

آج تو کچھ لوگ اس کافر کو سمجھانے گئے


ضمیر جعفری

No comments:

Post a Comment