یہ وصل کیا کہ خدا طور ہی جلا دے یار
مزا تو جب ہے کہ وہ عرش پر جگہ دے یار
میں روز خواب میں اونچی جگہ سے گِرتا ہوں
تُو مجھ کو چھوڑنے والا ہے تو بتا دے یار
تُو میرے بعد انہیں پھر بُلا لے محفل میں
بس ایک بار مِرے سامنے اُٹھا دے یار
یہ ہجر و وصل کے قصے تو سب نے لِکھے ہیں
تُو شعر باندھ رہا ہے تو کچھ نیا دے یار
تو دیکھ پھر میں زمانے سے کیسے لڑتا ہوں
وہ صرف آ کے مِرا حوصلہ بڑھا دے یار
مجھے چراغ جلانا ہے، دن بنانا ہے
بس ایک روز یہ سُورج ذرا بُجھا دے یار
وہ میرا ہو نہیں سکتا تو اے مصوّر سُن
ہماری ساتھ میں تصویر ہی بنا دے یار
علی ارتضیٰ
No comments:
Post a Comment