Thursday, 1 April 2021

یہ وصل کیا کہ خدا طور ہی جلا دے یار

 یہ وصل کیا کہ خدا طور ہی جلا دے یار

مزا تو جب ہے کہ وہ عرش پر جگہ دے یار

میں روز خواب میں اونچی جگہ سے گِرتا ہوں

تُو مجھ کو چھوڑنے والا ہے تو بتا دے یار

تُو میرے بعد انہیں پھر بُلا لے محفل میں

بس ایک بار مِرے سامنے اُٹھا دے یار

یہ ہجر و وصل کے قصے تو سب نے لِکھے ہیں

تُو شعر باندھ رہا ہے تو کچھ نیا دے یار

تو دیکھ پھر میں زمانے سے کیسے لڑتا ہوں

وہ صرف آ کے مِرا حوصلہ بڑھا دے یار

مجھے چراغ جلانا ہے، دن بنانا ہے

بس ایک روز یہ سُورج ذرا بُجھا دے یار

وہ میرا ہو نہیں سکتا تو اے مصوّر سُن

ہماری ساتھ میں تصویر ہی بنا دے یار


علی ارتضیٰ

No comments:

Post a Comment