صفحات

Saturday, 3 April 2021

تھے زمیں پر نہ آسمان میں تھے

تھے زمیں پر نہ آسمان میں تھے

ہم دعاؤں کے سائبان میں تھے

گزرے لمحات سے چلو پوچھیں

ہم کہاں اور کس جہان میں تھے

کس طرح کرتے ہم غزل رانی

اک طوالت بھری تکان میں تھے

چاہتے تم کہیں سے پڑھ لیتے

ہم تو ہر ایک داستان میں تھے

کرتے کردار اپنی مرضی کے

پیار کے قصے ہر زبان میں تھے

عشق رسوائیوں سے تھا محفوظ

آب پارے جو نور دان میں تھے

کرتے کس کس سے آشنائی ہم

اس قدر چہرے عکس دان میں تھے


پرویز رحمانی

No comments:

Post a Comment