صفحات

Friday, 2 April 2021

فتنے ہزار ہم کو سر رہ گزر ملے

 فتنے ہزار ہم کو سرِ رہ گزر ملے

پھولوں کی تھی تلاش مگر سنگِ در ملے

امن و اماں کے سائے میں بیداد گر ملے

خود اپنی خواہشات میں اُلجھے بشر ملے

مٹ جائیں سارے شِکوے گِلے شاید اب کی بار

جب بھی ملے ہم ان سے یہی سوچ کر ملے

مجرم ہوں ایک میں ہی یہ انصاف تو نہیں

چھوٹی سی اک خطا کی سزا عمر بھر ملے

اپنے جہاں میں مست ہیں اس دور میں سبھی

فرصت کسے یہاں، جو کوئی ٹُوٹ کر ملے

کوشش تو کی سبھی نے بہت اپنے طور پر

ساحل ملا کسی کو، کسی کو بھنور ملے

پایا نہیں کسی کو بھی فتنوں سے ہم نے پاک

ہر شعبۂ حیات میں زیر و زبر ملے

نایاب میرا کام ہے، کرتا رہوں تلاش

ممکن نہیں کہ سب کو متاعِ ہنر ملے


جہانگیر نایاب

No comments:

Post a Comment