اک بار پھر سے دل کو لگانا چاہیے
ان کی گلی میں پھر سے آنا جانا چاہیے
دیدار ان کا ہو یا نہ ہو، یہ نصیب
قسمت کو پھر سے لیکن آزمانا چاہیے
شاید وہ دیکھ ہی لے کھڑکی سے جھانک کر
خوش فہمی ہے اچھی، دل کو بہلانا چاہیے
دو چار دن میں بھلا دوں، ممکن نہیں یہ بات
اسے بھولنے کے لیے اک زمانہ چاہیے
جاں لے کر ہی رہے گی دل کی یہ لگی
دل کہہ رہا ہے جاں سے بھی جانا چاہیے
اس نے جو دئیے تھے سب زخم بھر گئے
ہے اس پر اب یہ لازم، اسے آنا چاہیے
کچھ مانتا نہیں دل، پاگل ہے یہ حضور
اس کو بھی اپنا کوئی دیوانہ چاہیے
کہاں کہاں بھٹکے گا مسافر اکیلا دل
دل کو بھی آخر کوئی ٹھکانہ چاہیے
آفتاب مسافر
No comments:
Post a Comment