صفحات

Friday, 2 April 2021

اک بار پھر سے دل کو لگانا چاہئے

اک بار پھر سے دل کو لگانا چاہیے

ان کی گلی میں پھر سے آنا جانا چاہیے

دیدار ان کا ہو یا نہ ہو، یہ نصیب

قسمت کو پھر سے لیکن آزمانا چاہیے

شاید وہ دیکھ ہی لے کھڑکی سے جھانک کر

خوش فہمی ہے اچھی، دل کو بہلانا چاہیے

دو چار دن میں بھلا دوں، ممکن نہیں یہ بات

اسے بھولنے کے لیے اک زمانہ چاہیے

جاں لے کر ہی رہے گی دل کی یہ لگی

دل کہہ رہا ہے جاں سے بھی جانا چاہیے

اس نے جو دئیے تھے سب زخم بھر گئے

ہے اس پر اب یہ لازم، اسے آنا چاہیے

کچھ مانتا نہیں دل، پاگل ہے یہ حضور

اس کو بھی اپنا کوئی دیوانہ چاہیے

کہاں کہاں بھٹکے گا مسافر اکیلا دل

دل کو بھی آخر کوئی ٹھکانہ چاہیے


آفتاب مسافر

No comments:

Post a Comment