صفحات

Saturday, 3 April 2021

اس کی دہلیز پہ یوں پھول پڑے رہتے ہیں

اس کی دہلیز پہ یوں پھول پڑے رہتے ہیں

جیسے دربار میں نذرانے دھرے رہتے ہیں

میرے کمرے میں جو سِگرٹ کا دھواں اڑتا ہے

دیر تک اس میں تِرے نقش بنے رہتے ہیں

کون ہے جس نے یہاں قہر مچا رکھا ہے

کس لیے شہر کے یہ لوگ ڈرے رہتے ہیں

جن کے پہلو میں بنے قبر کسی عاشق کی

ان درختوں پہ سدا پھول کھلے رہتے ہیں

اک تِری یاد کے بھرپور سواگت کے لیے

دل کے دو باب، ہمہ وقت کھلے رہتے ہیں

اس لیے بھی میں تجھے یاد بہت کرتا ہوں

ایسا کرنے سے مِرے زخم ہرے رہتے ہیں

مجھ کو تحفے میں ملے ہیں یہ ذکی اپنوں سے

میری آنکھوں میں جو یہ اشک سجے رہتے ہیں


ذوالفقار ذکی

No comments:

Post a Comment