صفحات

Saturday, 3 April 2021

اب تو عطائے دید ہو اے عکس کبریا

 اب تو عطائے دید ہو اے عکسِ کبریا

دل ہے تمہارے عشق میں کعبہ بنا ہوا

اے شیخ ہم سے بغض ہی رکھیو گا حشر تک

تیرے خدا کو ہم نے بھی سجدہ نہیں کیا

مسجد کے سامنے بھی سجایا ہے میکدہ

واعظ ہماری خُلد کے اندر نہیں رہا

اے حُسنِ حُور میں تِرے دھوکے سے بچ گیا

مینا مِری گواہ، میں مسجد نہیں گیا

ہم کو بھی کوئی ڈھونڈ رہا ہے جہان میں

ہم جس کو ڈھونڈتے ہیں ابھی تک نہیں ملا

مصلُوب ہو چکا ہوں مگر جی رہا ہوں میں

دار و رسن سے ہو کے بھی مُردہ نہیں گیا

پھر کیجئے گا آپ محبت بھی شوق سے

صحرا کی خاک سے کسی جوگی کو ڈھونڈ لا


حفیظ جوگی

No comments:

Post a Comment