صفحات

Saturday, 3 April 2021

کسی کا لوٹ کے آنا سہارا تھوڑی ہے

 کسی کا لوٹ کے آنا سہارا تھوڑی ہے

یہ دردِ سر ہے ہمارا تمہارا تھوڑی ہے

جو ہو سکے تو سمندر مثال ہو جاؤ

دو چار جام پہ اپنا گزارا تھوڑی ہے

میں اپنی آنکھ کہیں گھر میں چھوڑ آیا ہوں

یہ فائدہ ہے سراسر خسارہ تھوڑی ہے

یہ میری انگلیاں ریشم سے کھیلنا چاہیں

برا نہ مان یہ لمحہ دوبارہ تھوڑی ہے

میں سوچتا ہوں کبھی پچھلے چند سالوں پر

یہ وقت گزرا ہے، ہم نے گزارا تھوڑی ہے

بس اچھی لگتی ہیں سنوری سجی ہوئی چیزیں

تمہارے واسطے خود کو سنوارا تھوڑی ہے

تو غور کر، تری سج دھج کچھ اور کہتی ہے

ہدف تمہارا فقط دل بے چارہ تھوڑی ہے

مِرے سفر کو نیا موڑ دے نہیں سکتا

تمہاری آنکھ کا آنسو ہے تارہ تھوڑی ہے

یہ لوگ رات کے بیٹوں سے روشنی چاہیں

سو ان کی سوچ پہ اپنا اجارہ تھوڑی ہے

نہ صرف رک ہی گئے بلکہ جادہ چھوڑ دیا

تو شاد تم کو کسی نے پکارا تھوڑی ہے


شاد مردانوی

No comments:

Post a Comment