گداگری کا حوالہ نہیں خرید سکا
وہ پیٹ کاٹ کے پیالہ نہیں خرید سکا
کھُلے کواڑ پہ لکھا ہے؛ بند ہے چوکھٹ
وہ اک غریب کہ تالا نہیں خرید سکا
لحد سے پھُول اُٹھائے تو ایک ہار بُنا
خوشی کے وقت وہ مالا نہیں خرید سکا
تُو اس غریب کی اُجرت دبا کے بیٹھا ہے
تُو اس کے ہاتھ کا چھالا نہیں خرید سکا
احمد آشنا
No comments:
Post a Comment