Saturday, 24 April 2021

گدا گری کا حوالہ نہیں خرید سکا

 گداگری کا حوالہ نہیں خرید سکا

وہ پیٹ کاٹ کے پیالہ نہیں خرید سکا

کھُلے کواڑ پہ لکھا ہے؛ بند ہے چوکھٹ

وہ اک غریب کہ تالا نہیں خرید سکا

لحد سے پھُول اُٹھائے تو ایک ہار بُنا

خوشی کے وقت وہ مالا نہیں خرید سکا

تُو اس غریب کی اُجرت دبا کے بیٹھا ہے

تُو اس کے ہاتھ کا چھالا نہیں خرید سکا


احمد آشنا

No comments:

Post a Comment