صفحات

Thursday, 1 April 2021

ہر صبح دریچے میں پھولوں کو سجا دینا

 ہر صبح دریچے میں پھولوں کو سجا دینا

ہر شام بُجھے دل سے اک شمع جلا دینا

رستوں کو تکے جانا، ہر چاپ پہ چونک اُٹھنا

مُشکل ہے بہت مُشکل، کچھ لمحے بھُلا دینا

چوکھٹ پہ رکھے ہوں گے خوشیوں کے سبھی لمحے

آنچل میں انہیں بھرنا،۔ تقدیر بنا دینا

سندیس اسے دینا لِکھ لِکھ کے ہواؤں پر

خُوشبوؤں کے ہاتھوں میں ہر راز تھما دینا

اغیار کی محفل میں رُسوا نہ مجھے کرنا

جب رنگ پہ رات آئے چُپکے سے بتا دینا

آ لوٹ کے چلتے ہیں اس کُنجِ محبت میں

میں کِرنیں اُٹھا لایا، تم چاند سجا دینا


ساحر حسیب

No comments:

Post a Comment