صفحات

Thursday, 1 April 2021

ہر آئنے نے کہا رخصت غبار کے بعد

 ہر آئینے نے کہا رُخصتِ غبار کے بعد

یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے جمالِ یار کے بعد

زمانہ زیرِ نگیں تھا رضائے یار کے بعد

وہ اختیار مِلا ترکِ اختیار کے بعد

یہ مانتا ہوں ادب شرطِ عشق ہے لیکن

یہ ہوش کس کو رہے گا نگاہِ یار کے بعد

پروں سے منہ کو چھپا کر قفس میں آ بیٹھا

چمن کا حال نہ دیکھا گیا بہار کے بعد

وہ جام جام نہیں حاصلِ دو عالم ہے

جو دستِ شوق میں آیا ہے انتظار کے بعد

غمِ فراق کی منزل رئیس ختم ہوئی

اب آگے جلوے ہی جلوے ہیں ہجرِ یار کے بعد


رئیس نیازی

No comments:

Post a Comment