صفحات

Saturday, 3 April 2021

ہر رات تیری یاد کو سینے سے نکالا

 ہر رات تیری یاد کو سینے سے نکالا 

جیسے کسی مُورت  کو دفینے سے نکالا

اک خواہشِ ناکام کو اس کوچۂ دل سے

بدلے تیرے تیور تو قرینے سے نکالا

پاؤں تِری دہلیز پہ رکھنے کے سزاوار

تُو نے جنہیں تکریم کے زینے سے نکالا

سِکہ نہیں چلتا تِری سرکار میں، ورنہ

کیا کیا نہ ہُنر ہم نے خزینے سے نکالا

ہم ایسے بُرے کیا تھے کے نفرت نہ محبت 

 رکھا نہ کبھی پاس، نہ سینے سے نکالا

ٹھوکر میں طلب کی رہے ہر عمر میں ہم جان 

یوں جیت کے مفہوم کو جینے سے نکالا


اوریا مقبول جان

No comments:

Post a Comment