صفحات

Saturday, 3 April 2021

ہر ایک دکھ سے بڑا دکھ ہے روزگار کا دکھ

 ہر ایک دُکھ سے بڑا دُکھ ہے روزگار کا دُکھ

یہ روز روز کا صدمہ، یہ بار بار کا دکھ

بچھڑ کے ایک سے پٹری پہ لیٹنے والو

ہمارے دل میں بھی جھانکو ہے تین چار کا دکھ

قبا جو پھُول کی اُتری تو سب فسُردہ ہیں

نظر کسی کو بھی آتا نہیں ہے خار کا دکھ

وہ بے قرار ہے تو خلفشار میں بھی ہوں

کہ میرے دکھ سے جدا کب ہے میرے یار کا دکھ

شدید دکھ جو رگِ جان پر ہے ناخنِ زن

دہکتی آگ میں جلتے ہوئے چنار کا دکھ

وطن میں آگ مسلسل لگی ہے دونوں طرف

ہمارے دل میں سُلگتا ہے آر پار کا دکھ


عطا عطار

No comments:

Post a Comment