صفحات

Saturday, 10 April 2021

ہو گئی اپنوں کی ظاہر دشمنی اچھا ہوا

 ہو گئی اپنوں کی ظاہر دشمنی اچھا ہوا

چھوڑ دی ہم نے بھی ان کی دوستی اچھا ہوا

بچ گئے اپنوں کے ہر مشق ستم سے شکر ہے

دوستوں نے ہم کو سمجھا اجنبی اچھا ہوا

جس کو جینے کا ذرا سا بھی نہیں تھا حوصلہ

ڈر کے غم سے مر گیا وہ آدمی اچھا ہوا

جانے میں اور تو کے جھگڑے کیسے سلجھاتے بھی ہم

آ گئی تھی کام اپنی بے خودی اچھا ہوا

شام کے سائے سے بھی ڈرتی رہی جو روشنی

کھا گئی اس روشنی کو تیرگی اچھا ہوا

غم ہی اپنا یار ہے دل سے جدا ہوتا نہیں

چند لمحوں کی خوشی اب جا چکی اچھا ہوا

کون دیتا مجھ کو ان کی بے وفائی کا ثبوت

آپ نے کر دی کہی کو ان کہی اچھا ہوا

مجھ کو دیوانہ سمجھ کر لوگ مجھ سے دور ہیں

مفت میں جو مجھ پہ یہ تہمت لگی اچھا ہوا

اس طرح سے لاج رکھ لی ہم نے اصغرؔ پیار کی

روتے روتے آ گئی لب پر ہنسی اچھا ہوا


اصغر ویلوری

No comments:

Post a Comment