صفحات

Sunday, 25 April 2021

کاش ایسا ہو وہ ملنے کے بہانے آئے

 کاش ایسا ہو وہ ملنے کے بہانے آئے

کچھ سنے میری تو کچھ اپنی سنانے آئے

اس کو دیکھے ہوئے اک عرصہ ہوا ہے مجھ کو

آئے وہ پیاس ہی آنکھوں کی بجھانے آئے

دیکھنا چاہوں گی جی بھر کے اسے کہہ دو ذرا

اس سے کہہ دو کہ مجھے صرف ستانے آئے

روٹھ سکتی ہوں کہاں اس سے محبت ہے مجھے

اور اگر روٹھ گئی مجھ کو منانے آئے

میرا دیوانہ تھا وہ اس کا یہی تھا دعویٰ

اس کی دیوانگی کیسی ہے بتانے آئے

میں نے کاٹی ہیں بہت ہجر میں اس کی راتیں

اس نے بھی کاٹی ہیں گر راتیں سنانے آئے

کون قسمت سے منور کبھی لڑ سکتا ہے

آئے وہ دیکھے مِری ہار رلانے آئے


منور جہاں

No comments:

Post a Comment