صفحات

Sunday, 25 April 2021

مڑنا چاہوں بھی تو اب مڑنے کی کوئی راہ نہیں ہے

 مڑنا چاہوں بھی تو اب مڑنے کی کوئی راہ نہیں ہے

ویسے بھی درد کی اندھی راتوں میں

خوابوں کی برساتوں میں

بچی ہوئی کچھ روشنی میرے جسم پہ عقرب کے انداز میں چلنے لگتی ہے

جیسے نس نس جلنے لگتی ہے

درد سے جان نکلنے لگتی ہے

شہر کی ایک گلی میں اب بھی اک سایہ آتا ہے نظر

دیر ہوئی اک موسمِ گل کی باتیں ہیں

یادوں کی سوغاتیں ہیں

اک سہ پہر کے ڈھلتے سائے

دن بھر خالی رہنے والے اپنے گھر کی

چابی گردن میں لٹکائے

اپنی دھن میں چلتا جائے

پاس ہی کسی حویلی میں اک بینڈ مسلسل شور مچائے

موسیقی سے قدم ملائے

سر کو جھکائے

چلتا جائے

کون تھا وہ

وہ لڑکا میں تھا

کوئی سنگی کوئی ساتھی جس کے پاس نہ تھا

اس کے علاوہ اس کو کچھ احساس نہ تھا

شام ڈھلے چیزوں کے سائے کتنے لمبے ہو جاتے ہیں

سن اکسٹھ تھا، مئی کی چھ تاریخ تھی اس دن

شام کے پانج بجے تھے اور میں

سر کو جھکائے

موسیقی سے قدم ملائے

چابی گردن میں لٹکائے

چلتا ہی جاتا تھا

اب بھی ان قدموں کی آہٹ مجھے سنائی دے جاتی ہے

مجھ کو تنہا چھوڑ کے جاتی عمر دکھائی دے جاتی ہے


جمشید مسرور

No comments:

Post a Comment