صفحات

Sunday, 25 April 2021

میں ڈھونڈ تو رہا ہوں مگر مل نہیں رہا

 میں ڈھونڈ تو رہا ہوں مگر مل نہیں رہا

جیسے کہ میرے سینے میں اب دل نہیں رہا

جانے کہاں سے خون کا چشمہ اُبل پڑے

یہ گھر مزید رہنے کے قابل نہیں رہا

منطق، دلیل، فلسفے بے کار جائیں گے

اب ذہن تیری باتوں پہ مائل نہیں رہا

گردن پہ چوم کے وہ شرارت سے کہہ اُٹھے

کیا ہو گا آپ کا جو اگر تِل نہیں رہا

کیا سوچ کر مسیحا بنایا گیا تجھے

تجھ سے تو ایک زخم ہی اب سِل نہیں رہا

ہتھیار سارے ڈال دئیے جنگِ زیست میں

اب میں خود اپنے مدِ مقابل نہیں رہا


فیض محمد شیخ

No comments:

Post a Comment